Koran.biz

اسلام کی روشنی

اسلامی ہجری تقویم: تاریخ، مہینے، اہمیت اور گریگورین سے موازنہ

📅 2026-09-09 📖 Category: islamic_calendar
اسلامی ہجری تقویم کی تاریخ، مہینوں کی ترتیب، ان کی دینی اہمیت اور گریگورین تقویم سے موازنہ پر مبنی جامع مضمون۔

تاریخ اور پس منظر

اسلامی ہجری تقویم کا آغاز 622 عیسوی میں ہوا جب نبی اکرم ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔ یہ تقویم قمری نظام پر مبنی ہے، جس میں مہینوں کی تشکیل چاند کی گردش کے حساب سے ہوتی ہے۔ ہجری تقویم کے پہلے مہینے محرم سے بارہویں مہینے ذوالحجہ تک کل بارہ مہینے شامل ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے، اللہ کی کتاب میں جس دن سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ (سورۃ التوبہ: 36)

ہجری مہینوں کی تفصیل

ہجری تقویم کے ہر مہینے کی اپنی منفرد اہمیت ہے۔ محرم کو اسلامی سال کا پہلا مہینہ مانا جاتا ہے اور یہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ ربیع الاول کو نبی اکرم ﷺ کی ولادت کا مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ رمضان المبارک کو قرآن کی نزول کی وجہ سے خصوصی مقام حاصل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، لوگوں کے لئے ہدایت اور ہدایت کی واضح دلیلیں اور فرقان۔ (سورۃ البقرہ: 185)

اسلامی تقویم کی اہمیت

ہجری تقویم مسلمانوں کے لئے دینی اور عباداتی امور میں رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ نماز کے اوقات، روزے، حج اور دیگر عبادات کی تعیین اسی تقویم کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، یہ تقویم اسلامی تاریخ کے اہم واقعات کو یاد کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے، جیسے ہجرت مدینہ، غزوات اور نبی اکرم ﷺ کی زندگی کے دیگر اہم واقعات۔

گریگورین تقویم سے موازنہ

گریگورین تقویم شمسی نظام پر مبنی ہے اور 365 دنوں پر مشتمل ہے، جبکہ ہجری تقویم قمری ہے اور تقریباً 354 دنوں پر محیط ہوتی ہے۔ دونوں تقاویم میں فرق کی وجہ سے اسلامی تاریخوں کا گریگورین تقویم میں ہر سال 11 دن پیچھے ہٹنا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے رمضان، عیدین اور دیگر اسلامی تہوار مختلف موسموں میں آتے ہیں۔

→ العودة إلى الدراسات