Koran.biz

اسلام کی روشنی

توکل: مشکل وقتوں میں اللہ پر بھروسہ اور اسلامی تسلیم و رضا کا تصور

📅 2026-09-11 📖 Category: tawakkul
توکل کا مفہوم، اس کی قرآنی بنیادیں اور عملی زندگی میں اللہ پر بھروسہ کرنے کے طریقے،اسلامی تسلیم و رضا کے تصور کے ساتھ۔

تمہید

اسلامی تعلیمات میں توکل کا تصور ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ توکل کا مطلب ہے اللہ پر مکمل بھروسہ کرنا اور اس کی رضا پر راضی رہنا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو مسلمان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور اسے زندگی کی مشکلات میں ثابت قدم رکھتا ہے۔

قرآن میں توکل کی اہمیت

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر توکل کا ذکر آیا ہے۔ سورۃ الآل عمران، آیت 159 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ" یعنی "پھر جب تم کسی کام کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو، بے شک اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔" یہ آیت مسلمانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ تمام تدابیر اختیار کرنے کے بعد اپنی کوششوں کا نتیجہ اللہ کے سپرد کر دینا چاہیے۔

توکل کے عملی مظاہر

توکل کا حقیقی مظہر یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اللہ پر بھروسہ کرے، چاہے وہ روزی روٹی کا معاملہ ہو یا بیماری کا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ کرو جیسے بھروسہ کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اسی طرح رزق دے گا جس طرح پرندوں کو دیتا ہے، جو صبح خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو بھری پیٹ لوٹتے ہیں۔

اسلامی تسلیم و رضا

توکل کے ساتھ ساتھ تسلیم و رضا کا تصور بھی اہم ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جب انسان اللہ کے فیصلوں پر راضی رہتا ہے اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ سورۃ البقرہ، آیت 216 میں ارشاد ہوتا ہے: "وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ" یعنی "اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بُری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔"

→ العودة إلى الدراسات