تہجد: رات کی نماز کا طریقہ اور اس کے روحانی انعامات
تہجد کی نماز: تعارف اور اہمیت
تہجد کی نماز اسلام میں ایک خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ رات کی وہ نماز ہے جو سونے کے بعد اٹھ کر ادا کی جاتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے:
"اے محمد، رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کرو۔" (سورۃ الاسراء: 79)اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے خاص بندے رات کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔
تہجد کا طریقہ
تہجد کی نماز کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر فجر کی اذان سے پہلے تک ہوتا ہے۔ اسے دو رکعت کے نفل نماز کی صورت میں ادا کیا جا سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مختلف اوقات میں مختلف تعداد میں رکعات ادا فرمائیں۔ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عام طور پر گیارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔
تہجد کے روحانی انعامات
تہجد کی نماز کے بے شمار روحانی انعامات ہیں۔ یہ دل کی تسکین کا باعث بنتی ہے اور اللہ کے قرب کا ذریعہ بنتی ہے۔ سورۃ الزمر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"کیا وہ شخص جو رات کی ساعتوں میں سجدہ کر کے اور قیام کر کے عبادت کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے؟" (سورۃ الزمر: 9)یہ آیت تہجد کی نماز کی روحانی بلندیوں کو بیان کرتی ہے۔
تہجد کی نماز کی فضیلت
تہجد کی نماز کی ایک بڑی فضیلت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل کو کھینچتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
"ہمارے رب رات کے آخری تہائی حصے میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں۔"یہ حدیث تہجد کے وقت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔