Koran.biz

اسلام کی روشنی

سورہ الرحمن: الہی رحمت اور نعمتوں کی تفسیر

📅 2026-09-06 📖 Category: surah_ar_rahman
سورہ الرحمن میں اللہ کی رحمت اور نعمتوں کا بیان، اور اس کی مکرر آیت 'فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ' کا مفہوم۔

سورہ الرحمن کا تعارف

سورہ الرحمن قرآن مجید کی 55ویں سورہ ہے، جو مدنی سورہ ہے اور اس میں 78 آیات ہیں۔ اس سورہ کو "قرآن کی دلہن" بھی کہا جاتا ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بے شمار نعمتوں اور برکتوں کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کو مختلف انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ انسان اپنی محدودیت کو سمجھ سکے اور اللہ کی نعمتوں کی قدر کر سکے۔

اللہ کی رحمت اور نعمتوں کی تفصیل

سورہ الرحمن کی ابتدا 'الرَّحْمَٰنُ' سے ہوتی ہے، جو اللہ کی رحمانیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان اور جنات پر اپنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے۔ 'الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ' (آیت 5) میں سورج اور چاند کی حرکات کے توازن کی بات کی گئی ہے جو اللہ کی قدرت کا مظہر ہے۔ اسی طرح 'وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ' (آیت 6) میں درختوں اور ستاروں کی عبادت کا ذکر ہے۔

مکرر آیت کا فلسفہ

سورہ الرحمن کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی مکرر آیت 'فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ' ہے جو 31 مرتبہ دہرائی گئی ہے۔ یہ آیت انسانوں اور جنات کو اللہ کی نعمتوں کی یاد دہانی کراتی ہے۔ اس آیت میں ایک سوال کیا گیا ہے کہ "تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" اس سوال کا مقصد انسان کو اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

آخرت کی یاد دہانی

سورہ الرحمن کے آخر میں آخرت کا ذکر ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کا تذکرہ کیا ہے۔ 'وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ' (آیت 46) میں ان لوگوں کے لئے جنت کا وعدہ ہے جو اللہ کے حضور ڈرتے ہیں۔ یہ آیات انسان کو آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

→ العودة إلى الدراسات