Koran.biz

اسلام کی روشنی

سورہ الرحمن: الہی رحمت، نعمتیں اور مکرر آیت کا مفہوم

📅 2026-09-24 📖 Category: surah_ar_rahman
سورہ الرحمن میں اللہ کی بے شمار نعمتوں کا ذکر اور 'فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ' کی تکرار الہی رحمت کی خاصیت کو اجاگر کرتی ہے۔

تعارف

سورہ الرحمن قرآن مجید کی 55ویں سورت ہے، جو اپنی خوبصورت اور دلکش زبان کے لیے مشہور ہے۔ اس سورت کو 'عروس القرآن' یعنی قرآن کا دلہن بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنی بے انتہا رحمت اور نعمتوں کا ذکر کیا ہے، جو ہر انسان کے لیے واضح ہیں۔

الہی رحمت کا مظاہرہ

اس سورت کی ابتدا اللہ کے ایک عظیم الشان نام 'الرحمن' سے ہوتی ہے، جو اس کی بے پناہ رحمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ 'الرحمن' کا مطلب ہے 'نہایت مہربان'، جو دنیا اور آخرت میں سب کے لیے رحمت فرماتا ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز پر محیط ہے، جیسا کہ سورہ الاعراف میں فرمایا: "وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ" (الاعراف: 156)۔

نعمتوں کی فہرست

سورہ الرحمن میں اللہ تعالیٰ نے مختلف نعمتوں کا ذکر کیا ہے، جیسے کہ سورج اور چاند کا حساب، ستارے اور درخت، آسمان کا بلند کرنا، اور زمین کا بچھونا۔ یہ نعمتیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اللہ کی حکمت اور قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔ جیسا کہ آیت 4-5 میں فرمایا: "الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ"۔

مکرر آیت: 'فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ'

اس سورت کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں ایک آیت بار بار دہرائی گئی ہے: "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ" (تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟)۔ اس آیت کی تکرار کا مقصد انسان کو اللہ کی نعمتوں کی یاد دہانی اور ان کی قدر و قیمت کو سمجھانا ہے۔ یہ ایک تنبیہ بھی ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں کی ناشکری سے بچیں۔

اختتامیہ

سورہ الرحمن ایک ایسا پیغام پیش کرتی ہے جو اللہ کی رحمت، عدل اور نعمتوں کی تفصیل کو بیان کرتا ہے۔ یہ انسان کو اللہ کی عظمت کو پہچاننے اور اس کی نعمتوں کی شکر گزاری کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس سورت کی تلاوت اور فہم سے انسان کی زندگی میں سکون اور شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

→ العودة إلى الدراسات