سورہ الملک: عذاب قبر سے شفاعت اور رات کی تلاوت کی اہمیت
تعارف
سورہ الملک قرآن مجید کی 67ویں سورہ ہے، جس میں 30 آیات ہیں۔ اس سورہ کو 'تبارک' بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اللہ کی عظمت اور قدرت کو بیان کرتی ہے۔ اس مضمون میں ہم سورہ الملک کی تلاوت کی فضیلت، خصوصاً عذاب قبر سے شفاعت کے پہلوؤں پر غور کریں گے۔
عذاب قبر سے شفاعت
سورہ الملک کو عذاب قبر سے نجات دلانے والی سورہ کہا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مختلف احادیث میں اس سورہ کی فضیلت کا ذکر موجود ہے، جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے: 'یہ سورہ اپنے پڑھنے والے کے لئے قبر کے عذاب سے شفاعت کرے گی۔' (ترمذی)
"اللہ نے اس سورہ کو نجات دینے والی سورہ بنایا ہے جو قبر کے عذاب سے محفوظ کرتی ہے۔"
رات کی تلاوت کی فضیلت
رات کو سورہ الملک کی تلاوت خاص طور پر فضیلت رکھتی ہے۔ احادیث میں رات کو اس سورہ کی تلاوت کی تاکید کی گئی ہے تاکہ مومن اللہ کی حفاظت میں رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 'جو شخص سورہ الملک رات کو پڑھے گا، اللہ اسے محفوظ رکھے گا۔' (ابوداؤد)
قرآنی تشریحات
سورہ الملک میں اللہ کی قدرت کے مظاہر اور انسان کی بے بسی کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے مومن کو اللہ کی عظمت اور اس کی رحمت کا احساس ہوتا ہے۔ اس سورہ کی تلاوت سے انسان کے دل میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور وہ دنیا کے فانی ہونے کا شعور حاصل کرتا ہے۔