قرآن میں حضرت محمدؐ: کردار، رسالت اور آپ سے خطاب کی آیات
حضرت محمدؐ کا کردار اور مقام
قرآن مجید میں حضرت محمدؐ کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو رحمت للعالمین قرار دیا ہے، جیسا کہ سورۃ الأنبیاء میں فرمایا: 'وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ' (21:107)۔ یہ آیت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ آپؐ کا وجود تمام انسانیت کے لیے رحمت ہے۔
رسالت کی اہمیت
قرآن میں حضرت محمدؐ کی رسالت کو اللہ تعالیٰ کی آخری اور مکمل ہدایت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سورۃ المائدہ میں فرمایا گیا: 'الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ' (5:3)۔ اس آیت میں دین کی تکمیل کا اعلان ہے، جو آپؐ کی رسالت کے ذریعے ہوا۔
حضرت محمدؐ سے خطاب کی آیات
قرآن میں کئی مواقع پر اللہ تعالیٰ نے براہ راست حضرت محمدؐ سے خطاب کیا۔ ان آیات میں سے ایک سورۃ الضحى کی ابتدائی آیات ہیں: 'وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ' (93:1-2)۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو تسلی دی اور آپؐ کی محنت کے اجر کی بشارت دی۔
"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ" (33:21)
یہ آیت اس بات کی گواہ ہے کہ حضرت محمدؐ کا کردار اور طرزِ عمل مومنین کے لیے بہترین نمونہ ہے۔