Koran.biz

اسلام کی روشنی

قرآن میں فرشتے: جبریل، میکائیل، اسرافیل — ان کے کردار اور اسلامی عقیدہ

📅 2026-10-17 📖 Category: angels_in_quran
قرآن میں فرشتوں کا ذکر ان کے اہم کرداروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جبریل، میکائیل، اور اسرافیل کا تعارف اور ان کی ذمہ داریاں اسلامی عقیدے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

فرشتوں کا تعارف اور ان کی اہمیت

قرآن مجید میں فرشتوں کا ذکر ان کی اہمیت اور ذمہ داریوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ فرشتے اللہ کے خاص بندے ہیں جو مختلف امور کی تکمیل میں لگے رہتے ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی تخلیق کا مقصد مختلف ذمہ داریوں کی ادائیگی قرار دیا ہے۔ فرشتے انسانوں کی طرح کھانے پینے یا سونے کی ضرورت نہیں رکھتے۔

"وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ" (الأنبياء: 25)

جبریل علیہ السلام: وحی کے فرشتہ

جبریل علیہ السلام کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر موجود ہے۔ یہ وہ فرشتہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لاتے ہیں۔ انہیں روح الامین بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن میں سورۃ البقرہ (2:97) میں جبریل علیہ السلام کا ذکر خاص طور پر ملتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جبریل نے قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر نازل کیا۔

"قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ..." (البقرہ: 97)

میکائیل علیہ السلام: رزق اور بارش کے فرشتہ

میکائیل علیہ السلام کا ذکر قرآن میں اس طرح نہیں ملتا جس طرح جبریل علیہ السلام کا ملتا ہے، مگر اسلامی تعلیمات میں ان کی اہمیت مسلم ہے۔ میکائیل علیہ السلام رزق کی تقسیم اور بارش کے انتظام میں اللہ کے حکم سے کام کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی علم اسلامی روایات اور تفاسیر سے حاصل ہوتا ہے۔

اسرافیل علیہ السلام: صور پھونکنے والا فرشتہ

اسرافیل علیہ السلام کا کام قیامت کے دن صور پھونکنا ہے، جس کے ذریعے تمام مخلوقات کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ قرآن میں اسرافیل کا نام نہیں آیا، لیکن صور پھونکنے کا ذکر سورۃ الزمر (39:68) میں موجود ہے، جہاں قیامت کے دن کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔

"وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ..." (الزمر: 68)

فرشتوں پر ایمان کا اسلامی عقیدہ

فرشتوں پر ایمان لانا اسلامی عقیدے کا ایک لازمی رکن ہے۔ ایمان بالملائکہ کا مطلب ہے کہ ہر مسلمان کو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتوں کی موجودگی اور ان کی ذمہ داریوں پر یقین رکھنا ضروری ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت 285 میں ایمان بالملائکہ کو ایمان کے ضروری ارکان میں شامل کیا گیا ہے۔

"آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ..." (البقرہ: 285)
→ العودة إلى الدراسات