Koran.biz

اسلام کی روشنی

قرآنی تجوید کے اصول: تلاوت کی صحت اور خوبصورتی کا علم

📅 2026-07-12 📖 Category: تلاوت
قرآن کی صحیح تلاوت تجوید کے علم پر مبنی ہے، جو ہمیں الفاظ کے مخارج، صفات اور دیگر اصولوں سے روشناس کراتا ہے۔

تجوید کی بنیادی تعریف اور اہمیت

تجوید کا لغوی معنی ہے 'بہتر بنانا' یا 'خوبصورتی پیدا کرنا'۔ شرعی اعتبار سے تجوید کا مطلب ہے قرآن کی وہ تلاوت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہو۔ تجوید کی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ یہ ہمیں قرآن کے الفاظ کو صحیح مخارج کے ساتھ ادا کرنے کی تربیت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا (المزمل: 4)
یعنی 'قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو'۔

تجوید کے بنیادی اصول

تجوید کے کئی اہم قواعد ہیں جو تلاوت کو صحیح اور خوش آہنگ بناتے ہیں۔ ان میں مخارج الحروف (حروف کی ادائیگی کی جگہیں)، صفات الحروف (حروف کی صفات)، مد (کھینچنا)، قلقلہ (ارتعاش) وغیرہ شامل ہیں۔ یہ اصول قرآن کے الفاظ کو درست اور خوبصورت طریقے سے ادا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

مخارج الحروف

مخارج الحروف کی اہمیت اس بات میں ہے کہ ہر حرف ایک خاص جگہ سے ادا ہوتا ہے۔ جیسے کہ 'ق' حرف حلق سے نکلتا ہے، جبکہ 'م' لبوں کے ملنے سے پیدا ہوتا ہے۔ ان مخارج کا علم درست تلفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

تلاوت کی روحانی تاثیر

تجوید نہ صرف قرآن کی تلاوت کو فنی اعتبار سے بہتر بناتا ہے بلکہ اس کی روحانی تاثیر کو بھی بڑھاتا ہے۔ ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
یعنی 'تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے'۔

→ العودة إلى الدراسات