وتر کی نماز: وقت، طریقہ اور اسلام میں اہمیت
وتر کی نماز کا وقت
وتر کی نماز کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر فجر کی اذان تک ہوتا ہے۔ یہ نماز مغرب کی طاق رکعتوں کی طرح طاق رکعتوں میں پڑھی جاتی ہے، یعنی ایک، تین، پانچ یا اس سے زیادہ طاق رکعتوں میں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور جب آپ صبح کا وقت پائیں تو ایک رکعت وتر پڑھ لیں (صحیح بخاری، کتاب التہجد، حدیث نمبر 990)۔
وتر کی نماز کا طریقہ
وتر کی نماز کا طریقہ عام نمازوں کی طرح ہی ہے، سوائے اس کے کہ آخری رکعت میں قنوت کی دعا شامل کی جاتی ہے۔ قنوت کی دعا کو وتر کی نماز میں خاص اہمیت دی گئی ہے، جسے آخری رکعت کے رکوع کے بعد پڑھا جاتا ہے۔ قنوت کی دعا پڑھنے کے بعد سجدے میں جایا جاتا ہے اور نماز مکمل کی جاتی ہے۔
وتر کی نماز کی اسلام میں اہمیت
وتر کی نماز سنت مؤکدہ ہے، یعنی یہ نماز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ادا کی اور اس کی تاکید فرمائی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فجر اور عشاء کے وقت خاص ذکر کیا ہے: "اور رات کے کچھ حصے میں بھی اس کی تسبیح کر اور(فجر کے وقت) سجدوں کے بعد بھی" (سورہ ق، آیت 40)۔
"اور رات کے کچھ حصے میں بھی اس کی تسبیح کر اور(فجر کے وقت) سجدوں کے بعد بھی" (سورہ ق، آیت 40)
وتر کی نماز کی فضیلت
وتر کی نماز کی فضیلت میں کئی احادیث موجود ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وتر کی نماز فرض نہیں ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے" (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، حدیث نمبر 1673)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نماز اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا ذریعہ ہے۔